چاربیویوں اور چالیس بچوں سے متعلق کئے گئے ریمارکس کے خلاف الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کو نوٹس روانہ کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ساکشی مہاراج کو کل صبح تک جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کو میرٹھ میں ایک پروگرام کے دوران ساکشی مہارا ج نے ملک میں آبادی میں اضافے کے لئے بالواسطہ طورپر مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایاتھا۔ مختلف اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ساکشی مہاراج کے متنازعہ ریمارک پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کابھی مطالبہ کیاگیاتھا۔

دوسری طرف ساکشی مہاراج نے الیکشن کمیشن سے انہیں نوٹس ملنے کی تصدیق کی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ساکشی مہاراج نے کہا کہ انہیں آج ہی نوٹس ملا ہے اوروہ بھی انگریزی زبان میں ہے کیونکہ انہیں انگریزی نہیں آتی اس لئے انہوں نے اپنے دفتر کے ذمہ داروں کو ہدایت دی ہے کہ الیکشن کمیشن سے درخواست کریں کہ اس نوٹس کا ہندی ترجمہ فراہم کریں تاکہ وہ نوٹس کی تحریر کو سمجھ سکیں۔ آج ساکشی مہاراج نے کہا کہ میرٹھ کے ایک پروگرام میں سادھو سنتوں کے سامنے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی آبادی پر تویشش کا اظہارکیا ناہی کسی بطقے کا نام لیا بلکہ صرف اپنی تشویش ظاہرکی۔ ان کا کہناتھا کہ کسی ایک طبقے کو اپنے اوپر یہ بیان نہیں لینا چاہیے انہوں نے کہا کہ بعض ہندو بھی ایک سے زائد بیویاں رکھتے ہیں ،بھگوان کشن کی بھی کئی بیویاں تھیں راجا دشرت کی بھی تین بیویاں تھی اس طرح کے ساکشی مہاراج نے حوالے دیئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی تشویش بڑھتی آباد ی ہے ووٹ مانگنا نہیں۔

Post a Comment

 
UA-24837031-1