Saturday, 7 January 2017

چار بیویاں اور چالیس بچے اب نہیں چلیں گے: ساکشی مہاراج



ایک ایسے وقت جبکہ اترپردیش کے بشمول پانچ ریاستوں میں انتخابی تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے اور انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے دوسری طرف سپریم کورٹ نے حال ہی میں واضح طور پر یہ کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور قائدین کو انتخابی عمل کے دوران مذہب ‘ ذات پات اور عقیدہ کا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے ۔ لیکن بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے میرٹھ میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی آبادی میں اضافہ کےلئے بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ ساکشی مہاراج کا کہنا تھا کہ ملک کی آبادی کی وہی لوگ حوصلہ افزائی اور تائید کرتے ہےں جو چار بیویوں اور چالیس بچوں پر یقین رکھتے ہےں ۔ لیکن اب ملک میں یہ سب نہیں چلے گا ۔ اس دوران یہ اطلاع ملی ہے کہ اترپردیش الیکشن آفیسر نے میرٹھ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ساکشی مہاراج کے اس متنازعہ ریمارک پر رپورٹ بھی طلب کی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آبادی میں اضافہ ہندووںکی طرف سے نہیں ہوا ہے بلکہ ان لوگوں کی طرف سے ہوا ہے جو چار بیویوں اور چالیس بچوں کے نظریہ پر عمل کرتے ہےں۔ اس دوران اطلاع ملی ہے کہ کانگریس پارٹی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کے اس ریمارک کے خلاف الیکشن کمیشن میں شکایت کرسکتی ہے ۔
 بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے اپنے ریمارک پر وضاحت کرنے کی بھی کوشش کی ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ساکشی مہاراج نے کہا کہ ملک میں زمین بڑھ نہیں رہی ہے گھٹ رہی ہے لیکن آبادی بڑھتی جارہی ہے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کے چار بھائی سنیاسی ہے اور چاروں بھائیوں نے شادی نہیں کی انہیں ایوارڈ دینا چاہئے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چار بیوی اور چالیس بچے نہیں چلےں گے اور تین طلاق نہیں چلے گا ‘ سب کو اس سلسلہ میں فیصلہ لےنا ہوگا ۔
چار شادیوں اور چالیس بچوں کے بیان کے علاوہ ساکشی مہاراج نے یہ بھی کہا کہ مندر بن چکا ہے دنیا کی کوئی طاقت وہاں مسجد نہیں بناسکتی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے وزیر مہیش شرما نے وہاں کروڑوں روپیہ دیا ہے ۔ دھیرے دھیرے ایودھیا چمن بن جائے گا ۔

دوسری طرف رام مندر کے مسئلہ پر بھی ساکشی مہاراج نے کہا کہ متنازعہ اراضی پر مورتیاں کانگریس نے رکھوائی تھیں ۔ شیلا نیاس کانگریس نے کرایا ‘ تالا کانگریس نے کھلوایا سب کچھ کانگریس نے کروایا اور بابری مسجد کو توڑا کس نے نرسمہا راو_¿ تھے اور یہ بھی کانگریس نے کروایا ۔ خواہ مخواہ بی جے پی کو بدنام کیا جارہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نرسمہا راو اس کےلئے ذمہ دار تھے ۔

SHARE THIS

Author:

Hyderabad No.1 News Channel

0 comments: