جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے آج ریاستی اسمبلی میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران وادی میں پائی جانے والی بے چینی اور پرتشدد واقعات میں ہوئی ہلاکتوں کیلئے وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اپوزیشن کی طرف سے تحریک التوا کو منظور کئے جانے کے بعد نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے کہا کہ 2008 اور 2010میں بھی وادی میں بے چینی اور حالات خراب تھے لیکن ہم نے اپوزیشن کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ۔ ہم نے پاکستان یا اپوزیشن کو صورتحال کے خراب کرنے کیلئے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ۔ دو ہزار سولہ میں میڈیا پر حملہ کیا گیا ۔ اخبارات کے دفاتر پر دھاوے کئے گئے ۔ ان کا کہنا تھا موجودہ حکومت جواہر لال نہرو ‘ فاروق عبداللہ اور شیخ عبداللہ کو وادی میں عسکریت پسندی اور سکیوریٹی فورسس کی موجودگی کیلئے ذمہ دار ٹھہراتی ہے اور کیوں وہ اپنی ناکامیوں کو چھپارہی ہیں ۔ حکومت کی ناکامیوں سے ہی کشمیر میں صورتحال بحال نہیں ہوپارہی ہے ۔ عمر عبداللہ نے ریاستی حکومت حالات سے نمٹنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے ۔

Post a Comment

 
UA-24837031-1