Thursday, 5 January 2017

اکبراویسی کے مطالبہ پر فیس بازادائیگی کے بقایاجات جاری کرنے کا اعلان




مجلس کے فلورلیڈر اکبر الدین اویسی نے فیس باز ادائیگی اور اسکالرشپس کے بقایا جات کی اجرائی سے متعلق آج پھر حکومت سے وضاحت طلب کی ۔ فیس باز ادائیگی اور اسکالرشپ پر مباحث کے دوران اکبر اویسی نے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی تھی لیکن واضح جواب نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلی سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آر ٹی ایف اور ایم ٹی ایف کے بشمول دو ہزار چودہ پندرہ ‘ دو ہزار پندرہ سولہ اور دو ہزار سولہ سترہ کے کتنے بقایا جات ادا کرنے ہیں اور اس سال کتنے بقایا جات جاری کئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آر ٹی ایف اور ایم ٹی ایف کے بشمول بقایا جات جملہ رقم چار ہزار پانچ سو چار اعشاریہ چار صفر کروڑ ادا کرنی ہے ۔ اکبر اویسی نے کہا کہ وہ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ بقایا جات کے ساتھ ساتھ طلبہ کے ایم ٹی ایف اور آر ٹی ایف کی ادائیگی کیلئے وقت کا تعین کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ شیڈول کاسٹ کے ایک سو اکیہتر اعشاریہ سات سات کروڑ ‘ ایس ٹی کے ایک سو تیس اعشاریہ چھ چھ کروڑ ‘ بی سی ویلفیر کے نو سو دس اعشاریہ ایک صفر کروڑ ‘ ای بی سی کے ایک سو سینسٹھ اعشاریہ تین سات کروڑ ‘ معذورین کے سینسٹھ لاکھ ‘ اقلیتوں کے ایک سو اناودھ اعشاریہ دو چھ کروڑ بقایا جات ادا کرنے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ بیس ہزار طلبہ کے درخواستیں کیوں مسترد کی گئی ہیں۔ صرف ایک لاکھ اڑتالیس ہزار طلبہ رجسٹرڈ کئے گئے ۔ انہوں نے کالجس کے رجسٹریشن سے متعلق بھی حکومت سے وضاحت طلب کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ رجسٹر کالجس کو بھی تصدیق نامہ موصول نہیں ہورہا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انفرا اسٹرکچر اور فیکلٹی نہ ہونے پر کالجس بند ہونے کا وزیر اعلی نے دعوی کیا ہے لیکن جونیر کالجس کیوں بند ہوئے ہیں۔ بعض اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اکبر اویسی نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹکنیکل اور پیشہ ورانہ کورسس میں طلبہ کی تعداد دوسری ریاستوں کے مقابلہ کم ہے ۔ مجلس کے فلورلیڈر نے وزیر اعلی کی طرف سے انجینئرنگ گریجویٹس کے ضرورت نہ ہونے کے ریمارک کی شدید مذمت کی ۔ حق تعلیم ہر کسی انفرادی کا حق ہے ۔ تعلیم کے معیار کو بڑھانا چاہئے ۔ اگر نوکریاں نہیں مل رہی ہیں تو کیا پڑھنا چھوڑ دیں ۔ ایک ذمہ دار وزیر اعلی کو اس طرح کے جملے ادا کرنا زیب نہیں دیتا ۔ تلنگانہ کو حاصل کرنے والوں نے اپنی جانوں کی بازی لگائی ہے ۔ لوگ توقع کرتے ہیں کہ انہیں روزگار ملے گا تعلیم کا موقع ملے گا لیکن آج اس طریقہ سے بات کریں گے کہ کالجس کو بند کریں گے وہ مناسب نہیں ہے ۔ مجلس کے فلور لیڈر کے اس ریمارک پر حکمراں جماعت کے ارکان کی طرف سے شوروغل کیا گیا لیکن اکبر اویسی نے اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھا ۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ تاریخ مقرر کی جائے دو مہینے ہوں یا چار مہینے نوٹ بندی کا سہارا لے کر فیس باز ادائیگی میں تاخیر نہ کی جائے ۔ جتنے بھی بقایا جات ہوں اسے فوری جاری کئے جائیں ۔

SHARE THIS

Author:

Hyderabad No.1 News Channel

0 comments: