Wednesday, 30 November 2016

Tuesday, 29 November 2016

وزیراعظم کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کا احتجاج جاری

وزیراعظم کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کا احتجاج جاری



پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آج بھی شور و غل کے مناظر دیکھے گئے ۔ لوک سبھا میں ٹیکسزیشن لا ترمیمی بل دو ہزار سولہ بل بغیر کسی مباحث کے منظورکرلیا گیا ۔ ایوان کی کاروائی کے آغاز سے ہی اپوزیشن کی طرف سے نوٹ بندی پر احتجاج شروع ہوگیا تھا ۔ ادھر راجیہ سبھا میں بھی ایسا ہی ہنگامہ دیکھا گیا۔ اپوزیشن ارکان نے وزیراعظم کی موجودگی کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی جس کی وجہ سے کاروائی کو مسلسل خلل کے بعد دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔ دونوں ایوانوں میں وزیراعظم کی عدم موجودگی پر ارکان کی رطف سے کافی ہنگامہ آرائی دیکھی گئی ۔ لوک سبھا میں مسلسل شور و غل کے بعد کاروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو آٹھ نومبر سے اکتیس دسمبر تک کے اپنے تمام بینک اسٹیٹمنٹ پارٹی صدر امیت شاہ کے پاس جمع کرانے کی ہدایت دی ہے ۔ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے آج ہوئے اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا کہ تمام اسٹیٹمنٹ کی تفصیلات یکم جنوری دو ہزار سترہ تک امیت شاہ کے پاس جمع کرادی جائے ۔ پارلیمانی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اننت کمار نے بتایا کہ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ جس طرح سے وزیر اعظم کی قیامگاہ کی شاہراہ کو ریس کورس روڈ سے بدل کر لوک کلیان مارگ کیا گیا ہے اسی طرح سے غریب کلیان یعنی غریبوں کی بہبود پر حکومت توجہ دے گی ۔ اننت کمار کے مطابق وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ غریب کلیان یوجنا کے تحت جمع ہوئے فنڈس کا استعمال پانی ‘ برقی اور شعبہ صحت کے علاوہ غریبوں کی تعلیم پر کیا جائے گا ۔

Monday, 28 November 2016

مہاراشٹرا کے بلدی انتخابات: اڑتیس وارڈس پرمجلس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی

مہاراشٹرا کے بلدی انتخابات: اڑتیس وارڈس پرمجلس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی



مہاراشٹرا کے بلدی انتخابات میں مجلس اتحا دالملسمین نے ایک بار پھر اپنے وجود کا احساس دلاتے ہوئے شاندارمظاہرہ کیاہے۔ ریاست بھر کے مختلف بلدیات میں ہوئے انتخابات میں مجلس کے امیدواروں نے فتح کا جھنڈ ا لہرایاہے۔ اڑتیس وارڈس پرمجلس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ بیڑھ میں دس،کام گاؤں میں دو، دریاپورمیں دو، ماجل گاؤں میں ایک، شادا میں چار، عمر کھیڑ میں آٹھ، ملکاپورمیں چار، شیے گاؤں میں دو، سرجی میں تین، ہنگولی میں ایک، اور منگلورپیر کے ایک وارڈ پر مجلس کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔ منتخبہ امیدواروں نے صدرمجلس بیرسٹراسدالدین اویسی سے اظہارتشکر کیاہے۔ اوراس بات کا عزم کیاہے کہ صدرمجلس کی رہنمائی اور سرپرستی میں مقامی عوام کے مسائل کی یکسوئی کے لئے کوئی کثرچھوڑی نہیں جائے گی۔ واضح رہے کہ مہاراشٹرا کے اسمبلی انتخابات سے لیکر اورنگ آباد کے بلدی انتخابات میں بھی مجلس کے امیدواروں نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے مجلس کو مہاراشٹرا میں ایک اہم سیاسی طاقت بنایاہے۔
امریکہ کے کئی شہروں میں مذہبی منافرت کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا

امریکہ کے کئی شہروں میں مذہبی منافرت کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا



امریکہ کے کئی شہروں میں مذہبی منافرت کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ کیلیفورنیا کے تین مساجد میں دھمکی آمیز خطوط روانہ کئے گئے ہیں۔ ان خطوط میں یہ دھمکی دی گئی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اب مسلمانوں سے ہٹلر جیسا سلوک کریں گے اور امریکہ سے مسلمانوں کا صفایا کردیا جائے گا ۔ دھمکی آمیز خطوط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنا بوریا بستر باندھ کر فوری امریکہ سے نکل جانا چاہئے۔ امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف مہم پر کونسل آن اسلامک امریکن ریلیشنس نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ مقامی مسلمانوں نے مساجد میں سکیوریٹی فراہم کرنے کی بھی مقامی انتظامیہ سے درخواست کی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ نفرت آمیز خطوط میں امریکہ کے نو منتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تعریف بھی کی گئی ۔ مسلمانوں نے ان خطوط پر مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش والا قدم قرار دیا ہے ۔
حیدرآباد: زیرتعلیم چار لڑکیاں گذشتہ روز سے لاپتہ

حیدرآباد: زیرتعلیم چار لڑکیاں گذشتہ روز سے لاپتہ



حیدرآباد کے سرور نگر کے علاقے سے دسویں جماعت میں زیرتعلیم چار لڑکیاں 

گذشتہ روز سے لاپتہ بتائی گئی ہیں۔ بتایاگیاہے کہ چاروں لڑکی گذشتہ روز اسپیش کلاس میں جانے کے لئے نکلے تھے لیکن گھر نہیں لوٹے۔ سرپرستوں کی شکایت پر میرپیٹ پولیس نے سری لتا، سریشا، سندھیارانی، اور سراونی کی تلاش شروع کردی ہے۔
وزیراعلی کو نئی سرکاری رہائش گاہ تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں تھی

وزیراعلی کو نئی سرکاری رہائش گاہ تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں تھی



تلنگانہ جے اے سی کے صدر نشین پروفیسر کودنڈارام نے کہا کہ ریاست کے موجود حالات اور کسانوں کے مسائل کو دیکھتے ہوئے وزیراعلی کو نئی سرکاری رہائش گاہ تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کودنڈارام نے کہا کہ اگر وزیراعلی کو نئی عمارت ہی چاہیے تو حکومت کے پاس کئی عمارتیں موجود ہیں اس میں سے کسی ایک کا استعمال کیاجاسکتاتھا۔ کودنڈارام نے یہ بھی کہا کہ عوامی رقومات کا اس طرح استعمال نہیں کیاجاناچاہیے۔ کودنڈارام نے یہ بھی کہا کہ آٹھ ایکر کی اراضی پر وزیراعلی کی نئی سرکاری رہائش گاہ تعمیر کی گئی ہے۔ ڈبل بیڈروم مکانات کے لئے کچھ نہیں کیاگیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔
کشمیر: سیکوریٹی فورسس اور عسکریت پسندوں کے درمیان انکاونٹر

کشمیر: سیکوریٹی فورسس اور عسکریت پسندوں کے درمیان انکاونٹر



کشمیر کے ہندوارا میں واقع لائن گیٹ میں سیکوریٹی فورسس اور عسکریت پسندوں کے درمیان انکاونٹر ہوا ہے۔ بتایاگیاہے کہ دو عسکریت پسند ایک عمارت میں چھپے ہوئے تھے جس کی اطلاع ملنے پر سیکوریٹی فورسس نے عمارت کا گھیراؤ کرلیا۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے فائرنگ کئے جانے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ سیکوریٹی فورسسز بھی جوابی کاروائی کررہے ہیں۔
مہاراشٹرا میو نسپل کونلس اور نگر پنجایت کے انتخابات میں مجلس کی ۶۲ سیٹوں پر کامیابی

مہاراشٹرا میو نسپل کونلس اور نگر پنجایت کے انتخابات میں مجلس کی ۶۲ سیٹوں پر کامیابی



مہاراشٹرا میونسپل کونلس اور نگر پنچایت کے انتخابات میں مجلس اتحادالمسلمین نے شاندار مظاہرہ کیاہے۔ مجلس نے نندوربارمیں چاروارڈس ،عمر کھیڑ میں پانچ، انجان گاؤں سرجی میں دو، ہنگولی میں چار،ملکا پورمیں چار،مالے گاؤں میں ایک اور بیڑھ میں چھ وارڈس پر کامیابی حاصل کی ہے۔ مجلسی کارکنوں کی طرف سے انتخابی نتائج کے اعلان کے بعدمتعلقہ وارڈس میں جشن منایاگیا اور آتش بازی بھی کی گئی۔
ہرمیندر سنگھ منٹو کو گرفتارکرلیاگیا

ہرمیندر سنگھ منٹو کو گرفتارکرلیاگیا



پنجاب کے نابھا جیل سے فرار ہونے والے خالصتان لبیریشن فرنٹ کے چیف ہرمیندر سنگھ منٹو کو گرفتارکرلیاگیاہے۔ پنجاب پولیس اور کرائم برانچ دہلی کی مشترکہ ٹیموں نے ہرمیندر سنگھ کو نظام الدین ریلوے اسٹیشن کے پاس گرفتارکرلیا۔ بتایاگیاہے کہ ہرمیندر سنگھ کی دہلی کی طرف روانگی کے بارے میں دہلی پولیس کو اطلاع دے دی گئی تھی۔ اوراس طرح اسے گرفتارکرلیاگیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز پنجاب کی نابھا جیل سے ہرمیندر اور اس کے پانچ ساتھی فرار ہوگئے تھے پنجاب حکومت نے اس واقعہ کا سخت نوٹ لیا اور کئی اعلی عہدیداروں کو بھی معطل کردیاگیاہے۔
محبوبہ مفتی  کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات

محبوبہ مفتی کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات



اس دوران جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے آج دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے بتایا کہ نوٹ بندی کے فیصلہ پر انہو ں نے وزیر اعظم کو مبارکباد دی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بھلے ہی کچھ تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے لیکن جب کوئی بڑا فیصلہ لیا جاتا ہے تو اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ کشمیر کے حالات پر بھی انہوں نے وزیر اعظم سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔
وزیر اعظم مودی کو اپنے فیصلہ پر عوام سے معافی مانگنی چاہئے

وزیر اعظم مودی کو اپنے فیصلہ پر عوام سے معافی مانگنی چاہئے



بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کو اپنے فیصلہ پر عوام سے معافی مانگنی چاہئے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ وزیر اعظم صورتحال کے معمول پر آنے کیلئے پچاس دن مانگے ہیں لیکن آج بیس دن ہوچکے ہیں عوام کی مشکلات برقرار ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ نومبر کو مرکزی حکومت نے فیصلہ لیا لیکن دس مہینے کی تیاری کا جو دعوی کیا گیا ہے اس کا حساب ملک کی عوام کو دینا ہوگا ۔
 وزیراعظم مودی کو پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ آخر کالادھن ہے کیا۔

وزیراعظم مودی کو پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ آخر کالادھن ہے کیا۔



کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرمانے کہا ہے کہ وزیراعظم مودی کو پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ آخر کالادھن ہے کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے آنندشرما نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک طرف پہلے ہی اپنے لوگوں کو نوٹ بندی کی اطلاع دے دی تھی جب کہ کالے دھن کے نام پر غریب عوام کو بدنام کیاگیاہے۔ عوام کا پیسہ چھینا جارہاہے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں پر اپنے ہی پیسے سے عوام کو محروم ہونا پڑرہاہے۔
مودی حکومت کے خلاف ریالیاں۔ اوراحتجاجی دھرنے

مودی حکومت کے خلاف ریالیاں۔ اوراحتجاجی دھرنے



نوٹ بندی کے خلاف کولکتہ میں بائیں بازو کی جماعتوں سی پی ایم اور سی پی آئی کی طرف سے احتجاجی ریالی نکالی گئی ۔ ریاست کے سینئر پارٹی قائدین کے علاوہ ہزاروں کارکنوں نے اس ریالی میں حصہ لیا ۔ احتجاجی کارکن مرکز کے نوٹ بندی فیصلہ کے خلاف بیانرس تھامے ہوئے تھے ۔ احتجاجی قائدین نے کہا کہ حکومت کے فیصلہ سے غریب آدمی متاثر ہوا ہے جبکہ حکومت غریبوں کے مسائل کو سمجھنے میں ناکام ہوئی ہے ۔
مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی طرف سے بھی آج کولکتہ میں نوٹ بندی کے وزیر اعظم مودی کے فیصلہ کے خلاف زبردست ریالی نکالی گئی ۔ اس ریالی میں پارٹی کے سینئر قائدین بشمول وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی شرکت کی ۔ اپنے خطاب میں وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مرکز کے فیصلہ سے غریب عوام کو نقصان ہورہا ہے ۔
جموں میں کانگریسی کارکنوں نے ریالی نکالتے ہوئے نوٹ بندی کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کیا ۔ کانگریس کے کئی قائدین کو پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن منتقل کیا ۔ احتجاجی مودی حکومت کے خلاف نعرے لگارہے تھے ۔چینائی میں ڈی ایم کے کی طرف سے نوٹ بندی کے وزیر اعظم کے فیصلہ پر دھرنا دیا گیا ۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اسٹالین بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ مرکزی حکومت کی طرف سے فوری نوٹ بندی فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ۔
ادھر ممبئی میں بھی نوٹ بندی کے فیصلہ کے خلاف کانگریس کی طرف سے ریالی نکالی گئی ۔ کانگریسی قائدین کا کہنا تھا کہ سترہ اٹھارہ دنوں میں ستر یا اسی سے زائد لوگ مارے جاچکے ہیں اور یہ سب وزیر اعظم کے فیصلہ کی وجہ سے ہوا ہے ۔
گجرات کے وڈوڈرا میں بھی نوٹ بندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ کانگریسی کارکنوں نے نریندر مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ اس موقع پر احتجاجی خاتون مظاہرین اور پولیس کے درمیان دھکم پیل کے مناظر بھی دیکھے گئے ۔ بعد میں پولیس نے احتجاجیوں کو گرفتار کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن منتقل کیا ۔
نوٹ بندی کے خلاف بنگلور میں احتجاج کی اپیل کا کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا ۔ ٹرانسپورٹ نظام معمول کے مطابق بحال رہا جبکہ تعلیمی اور کاروباری ادارے بھی کھلے رہے۔ بعض مقامات پر احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔
نوٹ بندی کے خلاف کیرالا میں بائیں بازو اتحاد کی اپیل پر آج بند مکمل دیکھا گیا ۔ صبح سے ہی کاروبار ادارے بند تھے ۔ بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی دھرنے بھی منظم کئے گئے اور نوٹ بندی فیصلہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔

کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کی جانب سے بھی آج دہلی میں احتجاج کیاگیا۔ احتجاجی کارکن نوٹ بندی کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے ۔کارکنوں کا کہناتھا کہ وزیراعظم مودی کے نوٹ بندی کے فیصلے سے طلبہ کو شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ کارکنوں نے طلبہ کے قرضہ جات کو بھی معاف کرنے کا مطالبہ کیا۔
لوک سبھا اورراجیہ سبھا میں تعطل برقرار۔ کاروائی دن بھر کے لئے ملتوی

لوک سبھا اورراجیہ سبھا میں تعطل برقرار۔ کاروائی دن بھر کے لئے ملتوی



پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آج بھی کچھ کام نہیں ہوپایا۔ راجیہ سبھا میں آج جیسے ہی اجلاس کی کاروائی شروع ہوئی اپوزیشن ارکان وزیراعظم کی ایوان میں موجودگی اور نوٹ بندی پر مباحث میں حصہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے لگے۔ ایوا ن میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد اور مرکزی وزیر وینکیانائیڈو کے درمیان نوک جھونک دیکھی گئی۔ غلا م نبی آزاد نے کہا کہ آج ہم یوم برہمی منارہے ہیں کیونکہ کسان کافی برہم ہیں۔ بالکل سماج کا ہر طبقہ حکومت کے فیصلے سے خوش نہیں ہے۔ ایوان میں شوروغل کو دیکھتے ہوئے کاروائی کو ملتوی کیاگیا۔ بائیں بازو کے سیتا رام یچوری نے بھی سوال کیا کہ آخر وزیراعظم کہاں ہیں انہیں ایوان میں ہوناچاہیے۔ بارہ بجے کے بعد اجلاس جب دوبارہ شروع ہوا توایوان میں شوروغل جاری رہا۔ جس کی وجہ سے کاروائی کو دن بھر کے لئے ملتوی کردیاگیا۔
لوک سبھا میں بھی آج پھر شوروغل کے مناظردیکھے گئے جس کی وجہ سے کاروائی کو دن بھر کے لئے ملتوی کیاگیا۔ اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے ایوان میں کہا کہ ستر لوگ اب تک نوٹ بندی کی وجہ سے ملک میں مارے جاچکے ہیں۔ ہزار لوگ زخمی ہیں حکومت اس مسئلہ پرتوجہ نہیں دے رہی ہے۔ ملائم سنگھ یادونے مرکزی حکومت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہہ کسان برقی اور پانی سے محروم ہیں اور اب نوٹ بندی کی وجہ سے ان کی مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ آر جے ڈی کے جئے پرکاش نارائن نے بھی مرکزی حکومت کے فیصلے پر برہمی ظاہرکی۔ اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے بہترمفاد میں لیاگیاہے اور وہ تیقن دیتے ہیں کہ وزیراعظم ایوان میں آکر جواب دیں گے۔ لیکن اپوزیشن اپنے موقف پر اٹل رہی اور وزیراعظم سے آکر بیان دینا کا مطالبہ کرنے لگے۔ اسپیکر ستمرا مہاجن نے ایوان میں جاری شوروغل کو دیکھتے ہوئے دوبجے کے بعد کاروائی کو ملتوی کردیا۔
اس دوران لوک سبھا کی اسپیکرسمترا مہاجن نے اس امید کا اظہارکیاہے کہ لوک سبھامیں کاروائی کے خلل کے تعطل کے خاتمے کے لئے جلد ہی یکسوئی کی جائے گی۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سمترا مہاجن نے کہا کہ وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کررہی ہیں ۔ وہ امید کرتی ہیں کہ ایوان کی کاروائی چلے گی۔ حکمراں اور اپوزیشن جماعتیں مباحث کے حق میں ہیں لیکن کونسے رول کے تحت یہ مباحث ہوں گے اس پر بیٹھ کر بات کرناچاہیے۔ سمترا مہاجن نے یہ بھی کہا کہ دو دن کے اندر مسئلہ حل کرلیاجائے گا۔

Sunday, 27 November 2016

Saturday, 26 November 2016

Friday, 25 November 2016

Thursday, 24 November 2016

نوٹ بندی کا فیصلہ اترپردیش کے انتخابات کو دیکھ کر لیا گیا

نوٹ بندی کا فیصلہ اترپردیش کے انتخابات کو دیکھ کر لیا گیا



اترپردیش کے وزیر اعلی اکھلیش سنگھ یادو نے ایک بار پھر کہا ہے کہ نوٹ بندی کا فیصلہ اترپردیش کے انتخابات کو دیکھ کر لیا گیا ہے ۔ دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے پارلیمنٹ میں ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکھلیش سنگھ یادو نے کہا کہ وزیر اعظم کے حالیہ جذباتی تقاریر بھی اترپردیش انتخابات کے پیش نظر ہی کی گئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جس وقت نوٹ بندی کا فیصلہ کیا گیا اس وقت گاڑیاں کن کے مکان سے جاری تھیں اس سے بھی میڈیا واقف ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دعوی کیا کہ اترپردیش کے انتخابات میں سماج وادی پارٹی ہی جھنڈا لہرائے گی۔ اکھلیش سنگھ یادو نے یہ بھی کہا کہ سماج وادی پارٹی کالا دھن کے خلاف ہے لیکن حکومت کو نوٹ بندی کا فیصلہ لینے سے پہلے تیاری کرنی چاہئے تھی ۔
وقفے کے بعد وزیراعظم کے راجیہ سبھا میں نہ آنے پر برہمی

وقفے کے بعد وزیراعظم کے راجیہ سبھا میں نہ آنے پر برہمی



بی ایس پی کی لیڈر مایاوتی نے لنچ کے وقفے کے بعد وزیراعظم کے راجیہ سبھا میں نہ آنے پر برہمی کااظہارکیاہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ انہیں پہلے سے شک تھا کہ وزیراعظم لنچ کے وقفے کے بعدنہیں آئیں گے۔ مایاوتی نے کہا کہ پورا اپوزیشن اس بات پر متحدہ ہے جب تک راجیہ سبھا میں آکر پورے اپوزیشن کے خیالات کو سنجیدگی سے نہیں سنتے اور جواب نہیں دیتے اس وقت تک کاروائی چلنے نہیں دی جائے گی۔
ریاستوں کے آمدنی کے وسائل کو ہی بند کردیاگیا

ریاستوں کے آمدنی کے وسائل کو ہی بند کردیاگیا



ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے آج دہلی میں صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کرتے ہوئے نوٹ بندی سے عوام کو پیش آرہی مشکلات سے واقف کروایا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ آج حکومت ،میڈیا، صنعتکار وں اور سیاسی جماعتوں کو دھمکیا دے رہی ہے۔ ان کاکہناتھا کہ ایک مزدور کو تنخواہ نہیں مل پارہی ہے۔ یومیہ مزدورپریشان ہیں۔ ان کاکہناتھا کہ ریاستوں کے آمدنی کے وسائل کو ہی بند کردیاگیاہے۔ ریاستوں کی معیشت کو نقصان پہنچایاجارہاہے۔ تغلق اور ہٹلرسے بدترحکومت چلائی جارہی ہے۔
 پرانے نوٹوں کو قبول نہ کرنے سے ایک مریض کی موت ہوگئی

پرانے نوٹوں کو قبول نہ کرنے سے ایک مریض کی موت ہوگئی



بہار کے گایا ضلع میں پرانے نوٹوں کو قبول نہ کرنے سے ایک مریض کی موت ہوگئی ۔ بتایا گیا ہے کہ مریض کے رشتہ داروں کے پاس ہزار اور پانچ سو کے نوٹ تھے اور جب اسے علاج کیلئے دواخانہ لے جایا گیا لیکن انتظامیہ نے پرانی نوٹ لینے سے انکار کردیا ۔ مریض کے والد شنکر مانجھی نے بتایا کہ رقم نہ لینے کی وجہ سے علاج نہیں ہوسکا اور اس کی موت ہوگئی ۔
حالات خراب ہیں اور کئی افراد کی ملازمتیں بھی جانے کا خدشہ : ایسوچیام

حالات خراب ہیں اور کئی افراد کی ملازمتیں بھی جانے کا خدشہ : ایسوچیام



ایسوچیام کے سکریٹری جنرل ڈی ایس راوت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلہ سے چھوٹے کاروبار پر بہت برا اثر پڑا ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے راوت نے بتایا کہ ملک کے مختلف شہروں سے اس بات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ حالات خراب ہیں اور کئی افراد کی ملازمتیں بھی جانے کا خدشہ پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کنسٹرکشن اور ٹرانسپورٹ شعبہ بھی اس فیصلہ سے بہت بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ کے روزگار بھی اس فیصلہ سے متاثر ہوئے ہیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
بعدوزیراعظم کی عدم موجودگی کے باعث اپوزیشن ارکان کی برہمی۔

بعدوزیراعظم کی عدم موجودگی کے باعث اپوزیشن ارکان کی برہمی۔



راجیہ سبھا میں صبح کے اوقات میں شوروغل کے بعدنوٹ بندی کے معاملے پر اس وقت مباحث شروع ہوئے جب وزیراعظم نریندرمودی ایوان میں آئے۔ صدرنشین حامدانصاری نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کو پہلے بولنے کا موقع دیا۔ اس موقع پر منموہن سنگھ نے حکومت کے اس فیصلے پر عدم اتفاق کااظہارکیا۔ ان کاکہناتھا کہ زرعی شعبہ اس فیصلے سے بری طرح متاثرہوگا اور ملک کی معاشی ترقی بھی متاثرہوگی۔ منموہن سنگھ نے بتایاکہ شرح ترقی کی رفتار میں دوفیصد کی کمی ہوسکتی ہے۔ سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی طرف سے اس فیصلے پر عمل آوری کے لئے موثراقدامات نہیں کئے گئے ۔ان کاکہناتھا کہ وزیراعظم کالے دھن کو واپس لانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائد ہ نہیں ہوگا۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ عام آدمی کا شکایات کا جائزہ لیناچاہیے جو کہ اس فیصلے سے بری طرح سے متاثرہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج عام آدمی اپنے اکاونٹ سے بھی پیسے نہیں نکال پارہاہے۔
ایس پی کے لیڈر نریش اگروال نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ نریش اگروال نے وزیراعظم کی طرف سے اس فیصلے سے ان کی جان کو خطرہ ہونے کے ریمارکس پر بھی افسوس کا اظہارکیا۔ نریش اگروال کا کہناتھا کہ اگر اس طرح کا فیصلہ لینا تھا توملک کے عوام کا چہر ہ ہی کالا کردینا تھا۔ ان کاکہناتھا کہ عوام سے جو رقم وصول کی گئی ہے اس کا دس فیصد بھی عوام کونہیں لوٹایاگیا۔ عوام پوری طرح سے پریشا ن ہوچکے ہیں۔
راجیہ سبھا کہ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے راجیہ سبھا کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک میں کسی بھی طرح کا بڑا فیصلہ لیاجاتاہے اس وقتملک کے سابق وزرائیاعظم پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیتے آئے ہیں۔ لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے اس بڑے فیصلے کو لینے سے پہلے اعتماد میں نہیں لیاگیا۔ اس مباحث میں بی ایس پی کی مایاوتی اورٹی ایم سی کے ڈریک اوبرائے نے بھی حصہ لیتے ہوئے حکومت کے فیصلے پر برہمی کااظہارکیا۔

لنچ کے وقفے کے بعد وزیراعظم نریندرمودی راجیہ سبھا میں نہیں آئے جس پر اپوزیشن ارکان نے اعتراض کیا۔ اپوزیشن کاکہناتھا کہ وزیراعظم کوتمام ارکان کی بات سننی چاہیے اوراس کے بعداپنا بیان دیناچاہیے۔ مرکزی وزیر مختارعباس نقوی نے اس موقع پرکہا کہ مباحث کو شروع کرنا چاہیے۔ ان کاکہناتھا کہ ایوان میں قائد ایوان ارون جیٹلی موجود ہیں وہ اپوزیشن کا جواب دیں گے۔ لیکن اس کے لئے بہانہ نہیں بناناچاہیے۔ کانگریس کے آنندشرمانے اس موقع پر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اس طرح سے گمراہ نہیں کیاجاناچاہیے۔ وزیراعظم کی عدم موجودگی پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج شروع کردیا اور ان کی ایوان میں واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ ارکان جھوٹے وعدے بند کروجیسے نعرے بھی لگارہے تھے۔ اپوزیشن کے احتجاج پر نائب صدر نشین پی جے کورین نے کاروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی۔

Wednesday, 23 November 2016

فیصلے واپس لینا مودی کے خون میں نہیں ہے

فیصلے واپس لینا مودی کے خون میں نہیں ہے



حکومت نے ایک بارپھر نوٹ بندی کا فیصلہ واپس لینے سے انکارکردیا ہے اور کہا ہے کہ فیصلے واپس لینا مودی کے خون میں شامل نہیں ہے۔ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے یہ بات کہی ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیمت پر پانچسو اور ایک ہزار روپیے کے نوٹ برخاست کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کچھ بہتری کیلئے تیار ہے اور اپوزیشن جماعتیں اس سلسلے میں مشورے دے سکتی ہے ۔ انہوں نے دہلی دیہات کسان مزدور مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔
حیدرآباد: رقم کے حصول کیلئے عوام کی طویل قطاریں

حیدرآباد: رقم کے حصول کیلئے عوام کی طویل قطاریں



حیدرآباد کے ملک پیٹ کی آندھرا بینک شاخ کے پاس آج رقم کے حصول کیلئے عوام کی طویل قطاریں دیکھی گئیں ۔ دو دن بعد شادی ہونے والے خاندان کے لوگ بھی بینک کی قطار میں موجود تھے تاہم بینک انتظامیہ کی طرف سے رقم کی عدم اجرائی پر انہیں کافی مایوس دیکھا گیا ۔ عوام نے نوٹ بندی کے بعد بینکو ں کے طرز عمل پر ناراضگی ظاہر کی ۔ ان کا کہنا تا کہ حکومت کی طرف سے چوبیس ہزار روپیے نکالنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن بینکس رقم نہ ہونے کا بہانہ کررہے ہیں۔ کئی معذورا فراد کو بھی دھوپ میں بینک کی قطار میں کھڑا دیکھا گیا۔ بینک کی طرف سے رقم جاری نہ کرنے پر عوام کافی برہم نظر آئے۔ خواتین کو بھی یہی شکایت ہے کہ بینکس حکومت کے قواعد کی پابندی نہیں کررہے ہیں۔ اطلاع ملنے پر رکن اسمبلی ملک پیٹ احمد بلعلہ نے بینک پہونچ کر عہدیداروں کو تاکید کی کہ عوام کو مشکلات پیش نہ آئیں اور ان کے مسائل کی یکسوئی کیلئے فوری رقم جاری کی جائے ۔ شادیوں کے دستاویزات پیش کرنے کے باوجود بھی بینکس کی طرف سے رقم جاری نہ کرنے پر عوام برہم ہیں ۔
مودی سے ملاقات کے دوران وزیراعلی کے سی آر نے خفیہ معاہدہ کیا

مودی سے ملاقات کے دوران وزیراعلی کے سی آر نے خفیہ معاہدہ کیا



تلنگانہ کانگریس کے رکن اسمبلی جیون ریڈی نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران وزیراعلی کے سی آر نے خفیہ معاہدہ کیا ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ نوٹ بندی سے ریاست کے عوام کو پیش آرہی مشکلات کی وزیراعلی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کیلئے نئے نوٹوں کی زائد مقدار کیلئے بھی کے سی آر مرکز سے نمائندگی کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔
نائیڈو کو بڑی نوٹوں کی منسوخی کا علم تھا :  جگن موہن ریڈی

نائیڈو کو بڑی نوٹوں کی منسوخی کا علم تھا : جگن موہن ریڈی


وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے الزام لگایا کہ تلگودیشم سربراہ و اے پی کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کو بڑی نوٹوں کی منسوخی کا علم تھا ۔ انہوں نے راجمندری میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سے نوٹوں کی منسوخی کا علم ہونے پر چندرا بابو نے خود کو محفوظ کرلیا ۔ جگن نے اسے جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے مرکز پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ بغیر سونچے سمجھے اس پر عمل کیا جارہا ہے ۔ نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر تاخیر سے ردعمل ظاہر کرنے سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے جگن نے کہا کہ انہوں نے اس فیصلہ کے بارے میں ہر کسی سے بات کی اور یہ محسوس کیا کہ پچھڑا طبقہ شدید متاثر ہے جس کے پاس روز مرہ کے اخراجات کی تکمیل کیلئے چلر نہیں ہے ۔ انہوں نے اس فیصلہ کو واپس لینے کی خواہش کی ۔ جگن نے کہا کہ اگر حکومت ان نوٹوں کو منسوخ کرنا چاہتی تو اسے زیادہ مہلت دینی چاہئے تھی ۔ اس سے نقصان کم ہوسکتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کا میکانزم صحیح نہیں ہے ۔ اس فیصلہ پر عمل کے میکانزم کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو بھی نوٹوں کی منسوخی کی ذمہ داری قبول کریں ۔ کیونکہ مرکز میں ان کے وزرا ہیں اور ان کی پارٹی این ڈی اے کی حلیف ہیں۔ انہوں نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ اچھا فیصلہ ہوا تو ان کی جہ وجہ سے ہوا ہے اور اگر کچھ غلط ہوا تو اسے مودی نے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 90 فیصد معیشت نقدی پر مشتمل ہے کس طرح سوائپنگ مشینوں کا استعمال غریب لوگ اور دیہاتی کرسکتے ہیں۔ مودی نے اپنے فیصلہ سے تمام کی رقومات کو کالا دھن قرار دیا ہے ۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کالے دھن کی حمایت میں کوئی بھی نہیں ہے ۔ مرکز کا مقصد اچھا ہے لیکن اس کا میکانزم صحیح نہیں ہے ۔ اس پر مناسب غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
دو ہزار روپئے کی نقلی نوٹ مارکٹ میں

دو ہزار روپئے کی نقلی نوٹ مارکٹ میں




ادھر وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں دو ہزار روپئے کی نقلی نوٹ کے مارکٹ میں آنے سے تاجرین میں پریشانی دیکھی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق احمد آباد میں آنند سنٹر نامی ایک دکان پر سامان خریدنے کے بعد ایک شخص دو ہزار روپئے کا نوٹ دے کر گیا تھا اور دکان والوں نے اس کی باقی کی رقم بھی ادا کردی تھی ۔ دکاندار کے مطابق انہوں نے آج تک دو ہزار روپئے کی نوٹ نہیں دیکھی صرف ٹی وی میں ہی یہ نوٹ دیکھی تھی اور جب وہ اس نوٹ کو لے کر دوسرا سامان خریدنے کیلئے بڑی مارکٹ پہونچے تو وہاں یہ پتہ چلا کہ یہ نوٹ نقلی نکلی ۔ دکاندار کے مطابق انہوں نے بینک عہدیداروں کو بھی بتایا جس پر یہ تصدیق ہوگئی کہ یہ نوٹ نقلی تھا ۔ پولیس میں بھی اس بات کی شکایت درج کرادی گئی ہے اب دیکھنا ہے کہ کس طرح سے پولیس اس نئی پریشانی سے نمٹتی ہے ۔ دکاندار کا کہنا ہے کہ اگر کوئی چھوٹا تاجر دو ہزار روپئے کا چلر دیتا ہے تو اور اس کی نوٹ نقلی نکلتی ہے تو اس کا کافی نقصان ہوجائے گا ۔
بینک کی قطار میں کھڑے افراد پر لاٹھی چارج

بینک کی قطار میں کھڑے افراد پر لاٹھی چارج




اترپردیش کے فتح پور میں بینک کی قطار میں کھڑے افراد پر لاٹھی چارج بھی کی گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ گھنٹوں سے لوگ قطاروں میں کھڑے ہوئے تھے لیکن پولیس کی طرف سے معمر افراد کو نہیں بخشا گیا ۔ ضلع انتظامیہ نے اس واقعہ کا سخت نوٹ لیا ہے اور ذمہ دار ملازمین کو معطل کئے جانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔
ادھر آگرا میں بینک کے باہر دو گروپوں کے درمیان جھڑپ سے سنسنی دیکھی گئی ۔ بتایا گیا ہے کہ قطاروں میں کھڑے دو گروپ بحث و تکرار کے بعد اچانک متصادم ہوگئے ۔ پولیس کو انہیں منتشر کرنے کیلئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔
اترپردیش کے ہی سمبھل میں بھی اے ٹی ایم کی قطار میں کھڑے افراد پر لاٹھیاں برسائی گئی ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ رقم نکالنے کیلئے اے ٹی ایم سنٹر کے پاس جمع ہوئے تھے تاہم معمولی افراتفری کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کردیا ۔ بعض افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔
آر بی آئی کی تحدیدات کئی شادیوں کے انجام پانے میں رکاوٹ

آر بی آئی کی تحدیدات کئی شادیوں کے انجام پانے میں رکاوٹ



نوٹ بندی کی وجہ سے آر بی آئی کی تحدیدات کئی شادیوں کے انجام پانے میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔ بعض شہروں میں دولہنیں اپنے شادی کے دعوت نامے لے کر چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ ایک ایسا ہی افسوسناک منظر اترپردیش کے ایودھیا میں دیکھا گیا جہاں ایک شخص نے اپنی بیٹی کی شادی کیلئے اپنے مویشیوں کو فروخت کرتے ہوئے اس سے حاصل ہوئی رقم بینک میں جمع کرائی تھی لیکن اب جب شادی کا دن قریب آگیا وہ بینک سے پیسے نہیں نکال پارہے ہیں ۔ متاثرہ شخص نے بتایا کہ آٹھ دسمبر کو ان کی بیٹی کی شادی طے ہوچکی ہے اور جب وہ بینک گئے تو بینک انتظامیہ انہیں پیسے دینے سے انکار کررہا ہے ۔ اس شخص نے بتایا کہ جب بینک عہدیدار سے یہ کہا گیا ہے کہ بیٹی کی شادی ہے رقم دی جائے توعہدیدار کا جواب تھا بہت لوگوں کی بیٹی کی شادی ہے میں کیا کرسکتا ہے ۔ متاثرہ شخص نے انتظامیہ سے فوری مدد کرنے کی اپیل کی ہے ۔
نوٹ بندی کے فیصلہ نے ملک کے بارہ بجادیئے

نوٹ بندی کے فیصلہ نے ملک کے بارہ بجادیئے



مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے نوٹ بندی کے فیصلہ نے ملک کے بارہ بجادیئے ہیں۔ جنترمنتر پر احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ آج مزدور کو مزدوری نہیں مل رہی ہے ۔ آج پندرہ دن ہونے کو آگئے ہیں اور حکمران لوگ ہٹلر سے بڑھ چکے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ حکومت نے بڑا فیصلہ لیا لیکن عوام کی پریشانی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اب اکتیس ڈسمبر کے بعد اور بڑے فیصلے لیے کی بھی دھمکی دی گئی ہے ۔
وزیر اعظم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ایک غلط تجربہ ہے

وزیر اعظم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ایک غلط تجربہ ہے



کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وزیر اعظم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ایک غلط تجربہ ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیر فینانس کا نہیں بلکہ وزیر اعظم کا شخصی تھا ۔ اس فیصلہ سے کروڑوں لوگوں کو زبردست نقصان ہوا ہے ۔ راہل گاندھی نے ایک بار پھر کہا کہ وزیر اعظم کو پوپ کنسرٹ میں جاکر تقریر کرنا آتا ہے ۔ ناچ گانا دیکھ کر تقریر کی جاتی ہے لیکن پارلیمنٹ میں آکر وزیر اعظم بیان نہیں دے سکتے ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم آخر پارلیمنٹ کے اندر آنے سے کیوں ڈر رہے ہیں۔ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی جسے وزیر اعظم چھپارہے ہیں۔
پارلیمنٹ کے احاطہ میں بڑے نوٹوں کی منسوخی کے خلاف احتجاج

پارلیمنٹ کے احاطہ میں بڑے نوٹوں کی منسوخی کے خلاف احتجاج


 آج تمام اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے پارلیمنٹ کے احاطہ میں بڑے نوٹوں کی منسوخی کے خلاف احتجاج منظم کیا گیا ۔ اس احتجاجی دھرنا میں کانگریس ‘ بی ایس پی ‘ ٹی ایم سی ‘ سماج وادی پارٹی ‘ اے آئی اے ڈی ایم کے ‘ جے ڈی یو ‘این سی پی ‘ بائیں بازو کی جماعتیں اور ڈی ایم کے بھی شامل تھے ۔ اپوزیشن قائدین اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے جس پر وزیر اعظم سے پارلیمنٹ میں آکر بیان دینے کے مطالبہ کو لے کر نعرے درج تھے ۔ کافی دیر تک اپوزیشن کے ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔
اپوزیشن کا احتجاج جاری ۔ کاروائی دن بھرکیلئے ملتوی

اپوزیشن کا احتجاج جاری ۔ کاروائی دن بھرکیلئے ملتوی



لوک سبھا میں آج بھی نوٹ بندی کے معاملے پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر کاروائی نہیں چل پائی۔ آج اجلاس کی کاروائی جیسے ہی شروع ہوئی اسپیکر سمترا مہاجن نے وقفہ سوالات کا آغاز کیا۔ شوروغل کے دوران کچھ دیر کاروائی چلائی گئی تاہم اسے کچھ ہی دیرکے بعدملتوی کردیاگیا۔ اجلاس جب دوبارہ شروع ہوا توایوان میں ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ شوروغل کے درمیان ہی مرکزی وزیر ایم جے اکبرنے وزیراعظم کے دورے جاپان کی تفصیلات بیان کیں۔بعدمیں اسپیکرنے اپوزیشن ارکان سے مباحث کے سلسلے میں رائے طلب کی۔ اس پر قائد اپوزیشن ملکاراجن کھرگے نے کا کہ حکمراں جماعت کے ارکان ایوان کے باہر اپوزیشن پر مباحث سے بھاگنے کا الزام لگارہے ہیں اورکالے دھن کی تائید کا بھی ذمہ دٹھہرا رہے ہیں۔ درحقیقت حکومت مںی موجود لوگ ہی کالے دھن کی تائید کررہے ہیں اوریہ نہیں چاہتے کہ ایوان میں مباحث ہوں۔ ٹی ایم سی کے بندواوپدھیانے کہا کہ دونوں ایوانوں کے تین سو ارکان نے آج احتجاج کیا۔ اسپیکر کواس بات کا نوٹ لیتے ہوئے رول چھپن کے تحت مباحث کے لئے حکومت کو راضی کرنا چاہیے۔ آرجے ڈی اور سی پی ایم کے ارکان نے اس معاملے پر مباحث پر زوردیا۔ حکومت کی طرف سے مرکزی وزیر اننت کمار نے ایک بارپھر اپوزیشن پر ہی مباحث سے فرار اختیارکرنے کا الزام لگایا۔ اپوزیشن کی تحریک التواء کو اسپیکر کی طرف سے مستردکئے جانے کے بعد ایوان میں شوروغل شروع ہوگیا جس کی وجہ سے کاروائی کو دن بھر کے لئے ملتوی کردیاگیا۔
ادھر راجیہ سبھا میں بھی کاروائی نہیں چل پائی ۔ اجلاس کی کاروائی کے آغاز پر پہلے تعزیتی قرارداد پڑھی گئی اور خاموشی منائی گئی تاہم اس کے بعد اپوزیشن ارکان مسلسل وزیراعظم سے ایوان میں آکر بیان دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے لگے۔ کانگریس کے آنند شرما نے کہا کہ حکومت کے فیصلے سے ملک میں افراتفری کا ماحول ہے۔ مایاوتی سیتا رام یچوری اور نریش اگروال نے بھی وزیراعظم سے بیان دینے کا مطالبہ کیا۔ بار بار خلل کے بعد نائب صدرنشین پی جے کورین نے کاروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا ۔

Tuesday, 22 November 2016

دہلی : بڑے نوٹوں کی کے خلاف احتجاج پر دہلی کے نا ئب وزیر اعلیٰ گرفتار

دہلی : بڑے نوٹوں کی کے خلاف احتجاج پر دہلی کے نا ئب وزیر اعلیٰ گرفتار



عام آدمی پارٹی کی طرف سے بڑے نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کے خلاف آج دہلی میں احتجاجی ریالی نکالی گئی ۔ پارلیمنٹ کی طرف عام آدمی پارٹی کے کارکن نائب وزیر اعلی منیش سیسوڈیا کی قیادت میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہے تھے تاہم پولیس نے نہ انہیں تحویل میں لے لیا۔ عاپ کے کارکن وزیر اعظم مودی کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے ۔ احتجاجیوں اور پولیس کے درمیان دھکم پیل کے مناظر بھی دیکھے گئے ۔ وزیر اعظم مودی کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی گئی ۔ احتجاجیوں کو جب پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا عام آدمی پارٹی کے کارکن نے نعرے بازی کی ۔
نوٹوں کی تبدیلی کا عمل ٹھپ ہوجانے سے سینکڑوں افراد بشمول خواتین سڑکوں پر اتر آئی

نوٹوں کی تبدیلی کا عمل ٹھپ ہوجانے سے سینکڑوں افراد بشمول خواتین سڑکوں پر اتر آئی



اترپردیش کے شہر مراد آباد میں بینکس میں رقم نہ ہونے اور نوٹوں کی تبدیلی کا عمل ٹھپ ہوجانے سے سینکڑوں افراد بشمول خواتین سڑکوں پر اتر آئی ہیں۔ خواتین نے سڑک پر راستہ روکو احتجاج منظم کیا ۔ کئی خواتین اپنے ہاتھوں میں شادیوں کے دعوت نامے بھی تھامے ہوئے تھے ۔ ان کا کہنا تھاکہ آنے والے دو تین دنوں میں ان کے پاس شادیاں ہیں لیکن بینک کی طرف سے رقم جاری نہیں کی جارہی ہے ۔ خواتین کو اشک بار دیکھا گیا ۔ اساحتجاج کی وجہ سے مصروف شاہراہ پر کافی دیر تک ٹریفک جام رہی ۔
وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ میں آکر کیوں بات نہیں کرتے :  راہل گاندھی

وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ میں آکر کیوں بات نہیں کرتے : راہل گاندھی



کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے سوال کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ میں آکر کیوں بات نہیں کرتے ۔ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ جب وزیر اعظم ٹی وی پر بول سکتے ہیں ‘ پاپ کنسرٹ میں بول سکتے ہیں پارلیمنٹ میں جواب دینے میں انہیں کیا تکلیف ہے ۔
جیٹلی نے بڑی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کو تاریخی قدم قرار دیا

جیٹلی نے بڑی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کو تاریخی قدم قرار دیا



مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بڑی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کو تاریخی قدم قرار دیاہے ۔ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ بڑے نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ بڑا اور جرأت مندانہ قدم تھا ۔ انہوں نے وزیر اعظم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلہ سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا ۔ اور کئی افراد سطح غربت سے باہر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوٹوں کی منسوخی کی حکمت عملی اور اس کے طریقہ کار کو خفیہ رکھنا ایک چیلنج سے بھرا مرحلہ تھا ۔ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ ایک طرف اپوزیشن کہتی ہے کہ وزیر فینانس کو اسکا علم نہیں تھا تو دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بی جے پی کے بعض قائدین کو پہلے سے اس بات کی اطلاع دے دی گئی تھی ۔
بڑے نوٹوں کی منسوخی کے معاملے پر دونوں ایوانوں میں تعطل برقرار

بڑے نوٹوں کی منسوخی کے معاملے پر دونوں ایوانوں میں تعطل برقرار



بڑے نوٹوں کی منسوخی کے معاملہ پر لو ک سبھا کی کاروائی آج بھی نہیں چل پائی۔ آج اجلاس کی کاروائی جیسے ہی شروع ہوئی اسپیکرسمترا مہاجن نے وقفہ سوالات کا آغاز کیا۔ تاہم ایوان میں اپوزیشن ارکان اپنی تحریک التواء پر رول چھپن کے تحت مباحث کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے لگے۔ بعض احتجاجی ارکان پلے کارڈس کے ساتھ حکمران جماعت کی نشستوں کے پاس بھی پہنچ گئے اوروزیراعظم مودی کے خلاف نعرے بازی بھی کرنے لگے۔ شورو غل کے درمیان وقفہ سوالات مکمل ہونے کے بعد اسپیکر نے وقفہ صفر کا آغاز کرنے کی کوشش کی تاہم اپوزیشن ارکان کی طرف سے نعرے بازی میں شدت پیداہوگئی۔مرکزی وزیر اننت کمار نے کہا کہ حکومت مباحث کے لئے تیارہے اور تعمیری مباحث ہونے چاہیے۔ ان کاکہناتھا کہ اپوزیشن کیونکہ مباحث سے فرار ہورہی ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکاارجن کھیرگے نے کہا کہ ہم مباحث سے نہیں بھاگ رہے ہیں ہم نے جو تحریک التواء پیش کی ہے اس کے مطابق بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے اسپیکر سمترا مہاجن کے حوالے سے ایک شعر بھی پڑھا
لبوں پہ اس کے کچھ بددعا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جومجھ سے خفانہیں ہوتی
کھیرگے کا کہناتھا کہ اسپیکر کو وزیراعظم کو ایوان میں طلب کرنا چاہیے۔ جس پر اسپیکر نے کہا کہ وہ اس طرح ہدایت نہیں دے سکتی۔ کھیرگے نے کہا کہ ملک کی عوام پر ظلم ہورہاہے غریب لوگ مررہے ہیں ۔ جس پر مرکزی وزیر اننت کمار نے کہا کہ آسام اورمدھیہ پردیش کے ضمنی انتخاب میں اپنا جواب دیے دیاہے اور بی جے پے امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے سندیب بندواپودھیا نے کہا کہ حکومت ملک میں جاری موجود ہ حالات کی ذمہ دار ہے۔ تحریک التواء کے مطابق مباحث کی اجازت دینے سے انکار پر شوروغل میں اضافہ ہوگیا جس پر اسپیکرنے کاروائی کو دن بھر کے لئے ملتوی کردیا۔
اس دوران اسپیکر لوک سبھا ستمرا مہاجن نے لوک سبھا میں جاری تعطل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کیا کروں میری کوشش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ لوگوں کوتکلیف ہورہی ہے تواس پر مباحث ہونے چاہیے۔ سمترامہاجن نے کہا کہ وہ اتنی کوشش کررہی ہیں کہ کم از کم وقفہ سوالات کو چلایاجاسکے ۔ انہوں نے ایوان کے وسط میں اوروزیر کے سامنے پوسٹر لئے جانے کے عمل کو بھی نامناسب قرار دیا۔
اُدھر راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن ارکان کی طرف سے وزیراعظم کے ایوان میں آکر بیان دینے کے مطالبہ پر کافی ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔ اپوزیشن ارکان نے نوٹوں کی تبدیلی کے عمل کے دوران فوت ہونے والوں کے افراد خاندان کو دس لاکھ روپئے ایکس گریشیا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ کانگریس ،ٹی ایم سی، ایس پی، اور بی ایس پی کے ارکان نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرے بازی کی۔ نائب صدرنشین پی جے کورین نے کاروائی کو پہلے ساڑھے گیارہ بجے تک کے لئے ملتوی کیا۔ جے ڈی یو کے لیڈر شردیادونے پہلے بینکس کی قطاروں می فوت ہوئے متوفیان کے ورثاء کو دس لاکھ روپئے دینے کا مطالبہ کیا۔ ایس پی کے نریش اگروال اور بی ایس پی کی مایاوتی نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کو ایوان میں آکر بیان دیناچاہیے۔ مایاوتی کا کہناتھا کہ وزیراعظم کو عوام کے درد کا احساس ہوناچاہیے۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ اپوزیشن مباحث کے لئے تیارہے لیکن وزیراعظم کو پہلے ایوان میں آنا چاہیے۔ حکمران جماعت کے ارکان کی طرف سے بھی جوابی نعرے بازی پرنائب صدرنشین پی جے کورین نے اعتراض کیا۔ نائب صدرنشین نے ٹی ایم سی ارکان کی طرف سے فینانشل ایمرجنسی درج کردہ پلے کارڈس لانے پر بھی اعتراض کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت مباحث چاہتی ہے اور سولہ نومبر سے اس کا آغاز بھی ہوچکا ہے اس پر غلام نبی آزاد کاکہناتھا کہ ستر لوگ وزیراعظم کے غلط فیصلے کی وجہ سے مارے جاچکے ہیں۔ سیتا رام یچوری نے بھی کہا کہ وزیراعظم نے بڑے نوٹوں کی منسوخی کااعلان کیاتھا انہیں ہی ایوان میں آناچاہیے۔ بعدمیں نائب صدرنشین نے وزیرفینانس کو ایوان میں طلب کیا لیکن اپوزیشن ارکان اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور وزیراعظم سے ہی ایوان میں آکر بیان دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔ تین بار خلل کے بعدکاروائی کو چوتھی بار دن بھر کے ملتوی کردیاگیا۔

Monday, 21 November 2016

جنگی جہاز آئی این ایس چینائی کو آج ہندوستانی بحریہ میں شامل کرلیا گیا

جنگی جہاز آئی این ایس چینائی کو آج ہندوستانی بحریہ میں شامل کرلیا گیا



ہندوستان میں تیار کئے گئے میزائل تباہ کرنے والے جنگی جہاز آئی این ایس چینائی کو آج ہندوستانی بحریہ میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ مرکزی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے ممبئی میں منعقدہ تقریب میں اس جنگی جہاز کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کیا ہے ۔ یہ جنگی جہاز ایک سو چونسٹھ میٹر طویل اور سات ہزار پانچ سو ٹن وزنی ہے ۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا کہ پڑوسی ملک پاکستان سے بہتر تعلقات بنانے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی نے خود پہل کی تھی اور وہ خود پاکستان گئے لیکن وزیر اعظم کے اس دورہ پر کئی افراد نے اعتراض کیا ۔ پاریکر نے کہا کہ ہم کسی بھی پڑوسی کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں کیونکہ دو اچھے پڑوسیوں کے درمیان تعلقات سے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں لیکن ملک کی سلامتی کے معاملہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی حملہ کرتا ہے تو دشمن کو مارا جائے اپنی شہادت کا انتظار نہ کیا جائے ۔
لائن آف کنٹرول کے پاس بلااشتعال فائرنگ سے عوام میں خوف ودہشت

لائن آف کنٹرول کے پاس بلااشتعال فائرنگ سے عوام میں خوف ودہشت



جموں وکشمیر کے منجا کوٹ میں پاکستان کی طرف سے لائن آف کنٹرول کے پاس بلااشتعال فائرنگ سے عوام میں خوف ودہشت کا ماحول دیکھاگیا۔ مقامی عوام نے بتایا کہ گذشتہ رات سے مسلسل فائرنگ ہورہی ہے اور وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لئے مجبور ہیں۔ عوام نے یہ بھی بتایا کہ بچے کافی سہمے ہوئے ہیں ۔ علاقے کے تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوخواتین اس فائرنگ میں ماری گئی ہیں ۔ غریب لوگ روزمرہ کی ضروریات کو بھی پورا نہیں کرپارہے ہیں۔
دو ہزار روپئے کا نیا نوٹ رنگ چھوڑ رہا ہے : رینوکا چودھری

دو ہزار روپئے کا نیا نوٹ رنگ چھوڑ رہا ہے : رینوکا چودھری



کانگریس کے رکن راجیہ سبھا رینوکا چودھری نے کہا ہے کہ دو ہزار روپئے کا نیا نوٹ رنگ چھوڑ رہا ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے رینوکا چودھری نے کہا کہ انہوں نے خود اس کا تجربہ کرکے دیکھا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بھی عام آدمی یا خاتون دو ہزار روپئے کے نئی نوٹ اپنے پاس رکھتا ہو اور کسی وجہ سے نوٹ کا رنگ چھوٹ جائے تو کیا کوئی اس کی ضمانت دے گا کہ بینک اسے نقلی نہیں کہے گا ۔ رینوکا چودھری نے کہا کہ ایوان کی کارروائی میں خلل پیدا نہیں کررہی ہے بلکہ عام آدمی کے مسائل کو اٹھایا جارہا ہے ۔
اندور پٹنہ ایکسپریس حادثہ: ہلاکتوں کی تعدادایک سو چالیس تک پہونچ گئی

اندور پٹنہ ایکسپریس حادثہ: ہلاکتوں کی تعدادایک سو چالیس تک پہونچ گئی



گزشتہ روز کانپور میں ہوئے اندور پٹنہ ایکسپریس کے ڈبوں کے پٹری سے اترجانے کے واقعہ میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً ایک سو چالیس تک پہونچ گئی ہے ۔ ٹرین کے چودہ ڈبے پٹریوں سے اتر جانے سے دو سو سے زائد افراد بھی زخمی ہیں جن کا مختلف دواخانوں میں علاج جاری ہے ۔ این ڈی آر ایف کی پانچ ٹیمیں ریلوے اور فوجی جوانوں کی مدد سے امدادی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔ ٹرین کے ڈبوں میں پھنسے افراد کے زندہ بچنے کی امید ختم ہوگئی ہے ۔ اب تک تقریباً ستر افراد کی شناخت کی جاچکی ہے جن میں سے بیس کا تعلق اترپردیش کا ‘ پندرہ کا مدھیہ پردیش کا اور چھ کا بہار سے تعلق بتایا گیا ہے ۔ شناخت کے بعد بعض افراد کی لاشوں کو ان کے افراد خاندان کے حوالہ کردیا گیا ہے ۔