مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج لوک سبھا میں دو ہزار سولہ سترہ کا عام بجٹ پیش کیا ۔ انکم ٹیکس کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ حکومت نے سال دو ہزار سولہ سترہ میں انیس عشاریہ سات آٹھ لاکھ کروڑ روپیے کے خرچ کا منصوبہ بنایا ہے۔ منوصبہ جاتی بجٹ کے تحت پانچ عشاریہ پانچ لاکھ کروڑ روپیے اور غیرمنصوبہ جاتی بجٹ کے تحت چودہ عشاریہ دو آٹھ لاکھ کروڑ روپیے خرچ کئے جائیں گے ۔ غیرمحسوب آمدنی کا انکشاف کرنے والوں کو پینتالیس فیصد ٹیکس رقم ادا کرنے کی رعایت دی گئی ہے ۔ بجٹ میں فارما ‘ انفراسٹرکچر اور کسانوں کیلئے اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے ۔ سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو حکومت کیت عاون سے پکوان گیس فراہم کی جائے گی ۔ کسانوں کی آمدنی کو سال دو ہزار بائیس تک دوگنا کرنے کا بھی منصوبہ رکھا گیا ہے ۔نبارڈ کے تحت بیس ہزار کروڑ روپیے کا آبپاشی فنڈ رکھا جائے گا ۔ تین ہزار کروڑ روپیے نیوکلیائی توانائی کیلئے مختص کئے جائیں گے ۔ دو ہزار سولہ سترہ میں دس ہزار کیلو میٹر کی قومی شاہراہیں بنائی جائیں گی ۔ ساٹھ اسکوائر میٹر پر تعمیر کئے جانے والے مکانات پر سرویس ٹیکس عائد نہیں ہوگا ۔ پندرہ سو اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کئے جائیں گے۔ تمام چھوٹی دکانوں کو ہفتہ کے سات دن کھلی رکھنے کی اجازت دی جائے گی ۔ مارچ دو ہزار سترہ تک تین لاکھ راشن کی دکانیں قائم کی جائیں گی۔ کمزور طبقات کیلئے تین اسکیمیں متعارف کی جائیں گی ۔منریگا کے لیے اڑتیس ہزار پانچ سو کروڑ روپیے مختص کئے جائیں گے۔ فارم شعبہ کیلئے پینتیس ہزار نو سو چوریاسی کروڑ روپیے کا بجٹ رہے گا۔ آبی وسائل انتظامیہ کیلئے ساٹھ ہزار کروڑ روپیے خرچ کئے جائیں گے۔ آبپاشی کیلئے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کا بھی منصوبہ رکھا گیاہے۔ دیہاتوں میں سو فیصد برقی سربراہی کا بھی حکومت منصوبہ رکھتی ہے ۔ تین ہزار پانچ سو میڈیکل اسٹورس وزیراعظم جن آوشدھی یوجنا کے تحت کھولے جائیں گے ۔

Post a Comment

 
UA-24837031-1